نئی دہلی،10؍مئی(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) دہلی کے شاہین باغ میں پیر کو اس وقت بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا جب ساؤتھ دہلی میونپل کارپوریشن ( ایس ڈی ایم سی) نے بھاری پولیس جمعیت کی موجودگی میں بلڈوزرس کے ساتھ انہدامی کارروائی کرنے کی کوشش کی ۔خواتین کے بشمول سینکڑوں افراد کے احتجاج کی وجہ سے بلدی ادارہ کو انہدامی کارروائی کئے بغیر واپس جانا پڑا۔ احتجاج کے بعد ایس ڈی ایم سی کے عہدہ دار بلڈوزرس کے ساتھ واپس چلے گئے۔
احتجاجیوں نے بی جے پی زیراقتدارساؤ تھ دہلی میونسپل کارپوریشن اور مرکز کے خلاف نعرے لگاۓ اور مطالبہ کیا کہ کاروائی کو روکا جاۓ ۔ بعض خواتین انہدامی کارروائی کو روکنے کے لئے بلڈوزرس کے سامنے ٹھہر گئیں۔ اس دوران سپریم کورٹ نے شاہین باغ میں انہدامی کارروائی کے خلاف سی پی آئی ایم کی جانب سے داخل کردہ درخواست پر سما عت سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی پہل پر اس معاملہ میں مداخلت نہیں کر سکتے۔
جسٹس ایل ناگیشوراؤ اور جسٹس بی آرگوائی پرمشتمل بینچ نے بائیں بازو جماعت سے کہا کہ اس کے بجائے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہو۔ بینچ نے کہا کہ ی پی آئی کیوں پٹیشن داخل کر رہی ہے؟ کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟ سیاسی جماعتوں کی ایماء پر ہم مداخلت نہیں کریں گے۔ یہ صحیح پلیٹ فارم نہیں ہے۔ آپ کو ہائی کورٹ جانا چاہئے۔
قبل از میں دن میں عام آدمی پارٹی (عاپ) اور کانگریس کے قائدین مقام پر پہونچے اور دھرنا دیا۔ احتجاج کی وجہ سے شاہین باغ ،کلنڈی کنج ، جیٹ پور ، سریتاوہار، متھر اروڈ اور دیگر مقامات پر ٹریفک جام ہوگئی ۔
ایس ڈی ایم کی سنٹرل زون کے صدرنشین راج پال سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ احتجاج کی وجہ سے علاقہ میں غیر قانونی ڈھانچوں کو گرایا نہیں جاسکا۔ دسمبر 2019ء میں شاہین باغ سی اے اے کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یہ احتجاج مارچ 2020ء میں ختم کیا گیا جب کو ویڈ ۔19 کی وباءآئی۔ گذشتہ ماہ نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن نے جہانگیر پوری علاقہ میں غیر قانونی قبضوں کے خلاف مہم چلائی تھی جہاں 16 اپریل کو دوفرقوں کے درمیان تشدد کے واقعات پیش آۓ تھے۔ اس کارروائی کی شدید مذمت کی گئی تھی اور اس مہم کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ مداخلت کرنی پڑی تھی ۔
سنگھ نے بتایا کہ ناجائز قبضوں کو ہٹانا کسی بھی بلدیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے ادعا کیا کہ احتجاج سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ اس مقام پر سینئر پولیس عہدہ دار موجود تھے۔ ان کے ساتھ پولیس کی بھاری جمعیت تھی تا کہ انہدامی کارروائی کرنے والے ایس ڈی ایم سی کے عہدہ داروں کو سکیوریٹی فراہم کی جاسکے۔
ایک سینئر پولیس عہدہ دار نے بتایا کہ بلدی ادارہ کسی پریشانی کے بغیر اور حفاظتی کے ساتھ کارروائی کر سکے اس لئے پولیس کو تعینات کیا گیا۔عہدہ داروں نے بتایا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے نیم فوجی دستوں کو بھی تعینات کیا گیا۔
ایک عہدہ دار نے بتایا کہ جیسے ہی ایس ڈی ایم سی کے عہدہ دار بلڈوزرس کے ساتھ شاہین باغ پہونچے بعض مقامی افراد نے علاقہ میں غیر قانونی ڈھانچوں کو ہٹانا شروع کیا۔ شاہین باغ کے کلبڈی کنج علاقہ میں ایک سڑک پر واقع دکان کے مالک 40 سالہ اکبر نے بتایا کہ بلڈوزرس علاقہ میں تقریبا11:30 بجے پہونچے لیکن جلدی واپس ہوگئے کیونکہ یہاں کوئی قبضے نہیں تھے۔ عوام کو بتایا گیا اور انہوں نےاپنی بنڈیاں ہٹادیں۔
کانگریس قائدین بشمول پارٹی کی دہلی یونٹ کے میڈ یا سل وائس چیرمین پرویز عالم ان افراد میں شامل ہیں جنھیں پولیس نے حراست میں لیا۔ دہلی بی جے پی کے صدر آ دیش گپتا نے ناجائز قبضوں کے خلاف مہم کی مخالفت کے لئے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کی مذمت کی ۔
انھوں نے کہا کہ آج یہ بات ثابت ہوگئی کہ عام آ دمی پارٹی اور اس کے ارکان اسمبلی روہنگیوں اور بنگلہ دیشیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ بلڈوزرس کے سامنے لیٹ جانے والوں کو عوام جواب دیں گے۔ یہ ایک افسوس کی بات ہے کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس شاہین باغ میں ناجائز قبضوں کو ہٹانے کی مخالفت کررہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں سے میری درخواست ہے کہ وہ اس معاملہ کو مذہب سے نہ جوڑ میں ۔
گپتا نے 20 اپریل کو ایس ڈی ایم سی اور ای ڈی ایم سی کے میئرس کو خط لکھتے ہوئے ان علاقوں میں روہنگیوں ، بنگلہ دیشیوں اور غیر سما جی عناصر کی جانب سے ناجائز قبضوں کو ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ گذشتہ ماہ اوکھلا اور جسولا میں انہدامی کارروائی کی مہم کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن پولیس عملے کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کیا جاسکا ۔
انھوں نے کہا کہ بلدی ادارہ منگل کو نیو فر ینڈس کالونی میں گردوارہ روڈ کے قریب نا جائز قبضوں کے خلاف مہم چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 11 مئی کو سائی بابا مندر کے قریب لودھی روڈ پر مہر چند مارکٹ اور جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میٹرو اسٹیشن کے قریب ایسی ہی کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
مسلمانوں پر نشانہ! شاہین باغ میں مبینہ ناجائز قبضوں کے خلاف انہدامی کارروائی کی مہم سے مقامی عوام میں خوف پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک مقامی شہری شاہد صد یقی نے کہا کہ پوری دہلی میں کئی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات میں صرف شاہین باغ کے بارے میں ہوا کیوں کھڑا کیا جارہا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عہد یدار ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ۔ 45 سالہ افتخار نے جوشاہین باغ میں پیدا ہوۓ اور پرورش پائی ، انہدامی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے رہائشیوں میں خوف پیدا ہو گیا ہے ۔افتخار نے بتایا کہ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ نہیں دیکھا ۔ بعض مقامی افراد نے ادعا کیا کہ علاقہ میں کوئی غیر قانونی تعمیرات نہیں ہیں۔